مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ایران پر مسلط جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی عمل اور پاکستان کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں حائل رکاوٹوں پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خارجہ نے سفارتی عمل کی موجودہ صورتحال کا خاکہ پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ کی مسلسل بدنیتی، سفارتی وعدوں سے بار بار انحراف، ایران کے خلاف فوجی جارحیت، متضاد مؤقف اور حد سے زیادہ مطالبات وہ عوامل ہیں جو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اسلامی جمہوری ایران امریکہ پر گہرے عدم اعتماد کے باوجود، اس سفارتی عمل میں انتہائی ذمہ دارانہ انداز اور مکمل سنجیدگی کے ساتھ شریک ہے اور ایک معقول اور منصفانہ نتیجے تک پہنچنے کے لیے کوشاں ہے۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر کاربند رہنے کی ضرورت پر زور اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سفارتی راستے اپنانے کو ناگزیر قرار دیا۔
اس بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے نیویارک میں جاری جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے جائزہ اجلاس سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
آپ کا تبصرہ